Video narration
سوچیے، سیالکوٹ کی ایک صبح، 9 نومبر 1877 کو محمد اقبال دنیا میں آتے ہیں۔ وہ شاعر، فلسفی اور مفکر بنتے ہیں۔ لاہور میں تعلیم کے بعد یورپ جا کر فلسفہ، قانون اور ادب پڑھتے ہیں۔ مگر پہچان شاعری ہے۔ ان کے اشعار صرف خوب صورت الفاظ نہیں؛ ایک فکری پیغام ہیں۔ ان کا بنیادی تصور ہے: خودی—اپنی صلاحیت پہچاننا اور شخصیت مضبوط بنانا۔ شاہین آزادی، ہمت اور بلند مقصد کی علامت ہے؛ اقبال نوجوانوں کو بلند حوصلہ دیتے ہیں۔ فکر فرد سے قوم تک پہنچتی ہے۔ 1930 کے خطبۂ الہ آباد میں انہوں نے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کا اہم تصور پیش کیا، جس نے بعد میں پاکستان کی فکری تشکیل میں کردار ادا کیا۔ 21 اپریل 1938 کو لاہور میں ان کا انتقال ہوا۔ پیغام زندہ ہے: علم حاصل کرو، خودی پہچانو، بلند مقصد رکھو۔ یہی اقبال، شاعرِ مشرق ہیں۔